Saturday, 10 December 2016

راہوں میں مت خار بچھاؤ

راہوں میں مت خار بچھاؤ
مجھ سے آگے، بڑھ کر جاؤ
طوفانوں سے ڈرنے والو
ہمت کر کے دِیپ جلاؤ
گالی بَکنا ٹھیک نہیں ہے
بچوں کو تہذیب سکھاؤ
جلتی دھوپ میں سایہ دیں گے
ہر رستے پر، پیڑ لگاؤ
دُکھ ہی دُکھ جھیلے ہیں سب نے
تھوڑا سا تو سُکھ پھیلاؤ
آنے والی نسلیں خوش ہوں
کچھ راہیں آسان بناؤ
ہر اک پر مت کیچڑ پھینکو
پوشاکوں سے داغ مٹاؤ
پاکستان کی خوشبو پھیلے
گلشن گلشن ورؔد کھلاؤ

ورد بزمی

No comments:

Post a Comment