Saturday, 10 December 2016

ہمیں ہیں وہ کہ جنہیں بام و در سے رغبت تھی

ہمیں ہیں وہ کہ جنہیں بام و در سے رغبت تھی
کہ در بدر بھی اگر تھے تو گھر سے رغبت تھی
ہم اپنے حالِ دگرگوں کی اب خبر کیا دیں
خبر یہی ہے کہ اک بے خبر سے رغبت تھی
جبیں پہ خاکِ ندامت سجائے پھرتے ہیں
کہ رقصِ شعلہ سرود شرر سے رغبت تھی
شکستہ پا ہی نہیں ہم شکستہ خواب بھی ہیں
کہ قافلے سے فضائے سفر سے رغبت تھی
دُھلی دُھلائی ہوئی زندگی کو کیا معلوم 
کہ اک چکور کو داغِ قمر سے رغبت تھی

مظہر امام

No comments:

Post a Comment