دل اکیلا ہے بہت لالۂ صحرا کی طرح
تم نے بھی چھوڑ دیا ہے مجھے دنیا کی طرح
چھوڑ کے جاؤ نہ یوں عہدِ گریزاں کی طرح
بن کے امید رہو، وعدۂ فردا کی طرح
تم ہوا ہو، بکھیرو مجھے ساحل، ساحل
پاس رہتے ہو تو آتا ہے جدائی کا خیال
تم میرے دل میں ہو اندیشۂ فردا کی طرح
بیچ میں کچھ تو رہ و رسمِ تعلق رکھو
اجنبی یوں نہیں ملتے ہیں شناسا کی طرح
مظہر امام
No comments:
Post a Comment