Saturday, 10 December 2016

دل اکیلا ہے بہت لالۂ صحرا کی طرح

دل اکیلا ہے بہت لالۂ صحرا کی طرح
تم نے بھی چھوڑ دیا ہے مجھے دنیا کی طرح
چھوڑ کے جاؤ نہ یوں عہدِ گریزاں کی طرح
بن کے امید رہو، وعدۂ فردا کی طرح
تم ہوا ہو، بکھیرو مجھے ساحل، ساحل
موجِ مۓ ہو تو بہا دو مجھے دریا کی طرح
پاس رہتے ہو تو آتا ہے جدائی کا خیال
تم میرے دل میں ہو اندیشۂ فردا کی طرح
بیچ میں کچھ تو رہ و رسمِ تعلق رکھو
اجنبی یوں نہیں ملتے ہیں شناسا کی طرح

مظہر امام

No comments:

Post a Comment