کئی سراب ملے تشنگی کے رستے میں
رکاوٹیں ہیں بہت روشنی کےرستے میں
ہمارا آپ کا، سر پھوڑنا مقدر ہے
صنم کھڑے ہیں ابھی آدمی کے رستے میں
ہے اس کا ساتھ تو لب پر یہی دعا ہے کہ پھر
وہاں ملا بھی تو اپنا ہی آشنا سایہ
کھڑے تھے دیر سے ہم روشنی کے رستے میں
نئی ہے فکر مگر لفظ تو پرانے ہیں
قدامتیں ہیں وہیں تازگی کے رستے میں
مظہر امام
No comments:
Post a Comment