Friday, 15 April 2022

دنیا کا یہ اعزاز یہ انعام بہت ہے

 دنیا کا یہ اعزاز یہ انعام بہت ہے

مجھ پر تِرے اکرام کا الزام بہت ہے

اس عمر میں یہ موڑ اچانک یہ ملاقات

خوش گام ابھی گردش ایام بہت ہے

بجھتی ہوئی صبحیں ہوں کہ جلتی ہوئی راتیں 

تجھ سے یہ ملاقات سرِ شام بہت ہے 

میں مرحمت خاص کا خواہاں بھی نہیں ہوں

میرے لیے تیری نگہ عام بہت ہے

کم یاب کیا ہے اسے بازار طلب نے

ہم تھے تو وہ ارزاں تھا پر اب دام بہت ہے

اس گھر کی بدولت مِرے شعروں کو ہے شہرت 

وہ گھر کہ جو اس شہر میں بد نام بہت ہے 


مظہر امام

No comments:

Post a Comment