Friday, 15 April 2022

مٹا رہی تھی مجھے طرزِ انتہا اس کی

 مٹا رہی تھی مجھے طرزِ انتہا اس کی 

کبھی نہ کھل سکی مجھ پر کوئی ادا اس کی

نہ میں نے کوئی صدا اس کو دی، نہ وہ لوٹا 

میری انا کے مقابِل رہی انا اس کی

اسے خراجِ محبت ادا کروں گا ضرور

ذرا میں یاد تو کر لوں کوئی وفا اس کی

وہ چند لوگ جو میری طرف تھے، کیا کرتے 

اُدھر تو ایک خدائی تھی ہمنوا اس کی

نجانے کتنی محبت تھی اس کی نفرت میں 

کئی دعاؤں سے بہتر تھی بد دعا اس کی

اسے جدا ہوئے برسوں گزر گئے محسن

مگر ہے نقش دل و جاں پہ ہر ادا اس کی


محسن نقوی

No comments:

Post a Comment