Sunday, 15 November 2015

اپنے رستے ہوئے زخموں کی قبا لایا ہوں

اپنے رِستے ہوئے زخموں کی قبا لایا ہوں
زندگی میری طرف دیکھ کہ میں آیا ہوں
تشنگی حد سے سوا تو نہ تھی میخواروں کی
جانے کیوں جام اٹھاتے ہوئے تھرایا ہوں
کام آئی ہے وہی زلف جو میری نہ ہوئی
وقت کی دھوپ میں جس وقت میں کمہلایا ہوں
خیریت پوچھنے والے ہیں بہت سنجیدہ
جرم اتنا ہے کہ اک شوخ کا ہمسایہ ہوں
صبح ہو جائے تو اس پھول کو دیکھوں کہ جسے
میں شبستانِ بہاراں سے اٹھا لایا ہوں
عصرِ نو! مجھ کو نگاہوں میں چھپا کر رکھ لے
ایک مٹتی ہوئی تہذیب کا سرمایہ ہوں
 
مظہر امام

No comments:

Post a Comment