Sunday, 15 November 2015

اے چشم شبنمی یہ کوئی چھوٹی بات ہے

اے چشمِ شبنمی یہ کوئی چھوٹی بات ہے
دریا عبور کرنا ہے، بچوں کا ساتھ ہے
وہ میرا کچھ نہیں ہے، مگر ایک بات ہے
ملتا ہے یوں کہ جیسے زمانوں سے ساتھ ہے
سوچوں کے کس سفر سے پڑا ہے یہ واسطہ
سوچوں کے اس سفر میں تو دن ہے نہ رات ہے
بُزدل ہے، خوف کھاتا ہے مجھ سے مِرا عدو
حالانکہ جانتا ہے مِرا ایک ہاتھ ہے
بیدلؔ چھتوں پہ سوتے تھے ہم رات بھر مگر
یہ چاند اور چکور سے پہلے کی بات ہے
 
بیدل حیدری

No comments:

Post a Comment