اے چشمِ شبنمی یہ کوئی چھوٹی بات ہے
دریا عبور کرنا ہے، بچوں کا ساتھ ہے
وہ میرا کچھ نہیں ہے، مگر ایک بات ہے
ملتا ہے یوں کہ جیسے زمانوں سے ساتھ ہے
دریا عبور کرنا ہے، بچوں کا ساتھ ہے
وہ میرا کچھ نہیں ہے، مگر ایک بات ہے
ملتا ہے یوں کہ جیسے زمانوں سے ساتھ ہے
No comments:
Post a Comment