Sunday, 15 November 2015

ہم کیا کریں جو شاہ کی دہشت نہیں رہی

ہم کیا کریں جو شاہ کی دہشت نہیں رہی
قابو میں اس کے اپنی ہی خلقت نہیں رہی
اس علم نے تو اور بھی گمراہ کر دیا
یہ شمع بھی اب اپنی ضرورت نہیں رہی
اتنی بھی بارشوں سے نہ کر رحم کی اپیل
دیوار کیا رہے گی، اگر چھت نہیں رہی
"بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے"
اب عاشقی میں یہ بھی سہولت نہیں رہی
بیدلؔ بغیر روئے نہ آئی تمہیں بھی نیند
افسوس، تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
 
بیدل حیدری

No comments:

Post a Comment