دنیا کے سب حسین نظارے، خدا گواہ
بس اک نگاہِ یار پہ وارے، خدا گواہ
دریا یہ کشتیاں یہ کنارے، خدا گواہ
شاہد ہیں رتجگوں پہ ہمارے، خدا گواہ
تنہائی، ہجر، طعنِ زمانہ، فراق، دکھ
یہ سارے زہر دل میں اتارے، خدا گواہ
جیسے بھی گزری ہجر کی شب، سو گزار لی
ہم نے مگر نہ مانگے سہارے، خدا گواہ
ہر قیس ریت پھانکتا پھرتا ہے، دشت کی
جس نے بھی خواب دیکھے تمہارے، خدا گواہ
تاثیر ہم نے رکھا ہے، پاسِ وفا فقط
ہم عشق میں کبھی نہیں ہارے خدا گواہ
تاثیر جعفری
No comments:
Post a Comment