خود نوِشت
میں لکھتا رہا
میں کوئی کہانی لکھتا رہا
کیا نام تھے وہ
کیا موسم تھے
جن کی اڑتی ہوئی مٹی کے
گرداب ہیں میرے چار طرف
کچھ دھندلی دھندلی راتوں کے
ٹوٹے پھوٹے
مہتاب ہیں میرے چار طرف
کیا خواب ہیں میرے چار طرف
قبروں پہ چمکتی کنکریاں
گر آنکھیں ہیں تو کس کی ہیں؟
یادوں کے بھولے کہرے سے
کوئی ابرِ شام بناتا رہا
کسی غم کا چاند سجاتا رہا
صدیوں سے سسکتی خاموشی
کچھ کہتی رہی
میں سنتا رہا
میں لکھتا رہا
میں کوئی کہانی لکھتا رہا
دن دھوپ میں جلتے کٹتے رہے
اور شام سہانی لکھتا رہا
میں ریت پہ پانی لکھتا رہا
مِرے ٹیلے کی تنہائی میں
چلتی رہی کوئی اداس ہوا
میں صفحہ صفحہ بکھرتا رہا
میں فقرہ فقرہ مٹتا رہا
میں مٹتا رہا
میں لکھتا رہا
افتخار بخاری
No comments:
Post a Comment