سنبھل کر، فیصلے کی یہ گھڑی ہے
اور اس پہ شرط بھی کتنی کڑی ہے
میں اس کو چھوڑ کر جانے لگا ہوں
محبت راستہ روکے کھڑی ہے
مری آغوش میں سوئی ہے جو اب
صبح سے شام تک مجھ سے لڑی ہے
ڈٹا ہوں جب سے اپنی بات پر میں
وہ اپنی شرط پہ تب سے اڑی ہے
ہے ہرسوں وحشتوں کا شور ثانی
مگر لہجے میں ویرانی گڑی ہے
وجیہہ ثانی
No comments:
Post a Comment