Tuesday, 15 December 2020

بڑے اصول بڑے ضابطے سے ملتا ہے

 بڑے اصول بڑے ضابطے سے ملتا ہے

وہ جب بھی ملتا ہے اک فاصلے سے ملتا ہے

ترے خیال سے غزلیں کشید کرتا ہوں

ترا جمال مرے قافیے سے ملتا ہے

مرید بن کے عقیدت سے پیش آتا ہوں

مجھے جو شخص ترے واسطے سے ملتا ہے

غزل سرائی کہاں سیکھنے سے آتی ہے

یہ وہ شعور ہے جو حادثے سے ملتا ہے


احمد آشنا

No comments:

Post a Comment