بڑے اصول بڑے ضابطے سے ملتا ہے
وہ جب بھی ملتا ہے اک فاصلے سے ملتا ہے
ترے خیال سے غزلیں کشید کرتا ہوں
ترا جمال مرے قافیے سے ملتا ہے
مرید بن کے عقیدت سے پیش آتا ہوں
مجھے جو شخص ترے واسطے سے ملتا ہے
غزل سرائی کہاں سیکھنے سے آتی ہے
یہ وہ شعور ہے جو حادثے سے ملتا ہے
احمد آشنا
No comments:
Post a Comment