گزر نہ جائیں کہیں انتظار میں ہم لوگ
کھڑے ہوئے ہیں ابھی تک قطار میں ہم لوگ
زمیں کو پھاڑ نہ دے انتشارِ یکتائی
بکھرتے جاتے ہیں پروردگار میں ہم لوگ
ہمارے دکھ میں پرندے بھی خون روئیں گے
خزاں رسیدہ ہوئے ہیں بہار میں ہم لوگ
سنا سکے نہ تجھے سن سکے مصیبت میں
پکارتے رہے تیری پکار میں ہم لوگ
ہمیں تلاشنے والوں کو یہ بتا دینا
بھٹک کے بکھرے تھے گرد و غبار میں ہم لوگ
اسی پہاڑ پہ لوٹا دے پھینکنے والے
جہاں سے آئے تھے اس آبشار میں ہم لوگ
نظامِ دل ترا پابند ہے چلا نہ چلا
اب آ گئے ہیں ترے اختیار میں ہم لوگ
ہمارے خواب مسافت میں ڈھل رہے ہیں علی
پڑے ملیں گے کسی رہگزار میں ہم لوگ
علی شیران
No comments:
Post a Comment