زندگی کیا تری چاہت کی ردا ہو جیسے
بندگی کیا ترے ملنے کی دعا ہو جیسے
کسی خوشبو سے کسی لمس کی سرگوشی سے
دلِ وارفتہ کا دروازہ کھلا ہو جیسے
سرخ چوڑی کی کھنک چھیڑ گئی پھر ہم کو
پھر تری یاد کا کنگن سا بجا ہو جیسے
تیری آواز کی رم جھم سے شرابور ہے دل
میں تمہارا ہوں یہ دھیرے سے کہا ہو جیسے
اس تصور سے ہی سرشار رہا کرتی ہوں
مرا آنچل ترے دامن سے بندھا ہو جیسے
کس سے مر مٹنے کی سیکھی ہے ادا کیا کہیے
شمع پر پھر کوئی پروانہ جلا ہو جیسے
بن ترے زیست تھی اک درد سمندر کی طرح
یا کڑی دھوپ میں اک آبلہ پا ہو جیسے
نسرین سید
No comments:
Post a Comment