Tuesday, 15 December 2020

زندگی کیا تری چاہت کی ردا ہو جیسے

 زندگی کیا تری چاہت کی ردا ہو جیسے

بندگی کیا ترے ملنے کی دعا ہو جیسے

کسی خوشبو سے کسی لمس کی سرگوشی سے

دلِ وارفتہ کا دروازہ کھلا ہو جیسے

سرخ چوڑی کی کھنک چھیڑ گئی پھر ہم کو

پھر تری یاد کا کنگن سا بجا ہو جیسے

تیری آواز کی رم جھم سے شرابور ہے دل

میں تمہارا ہوں یہ دھیرے سے کہا ہو جیسے

اس تصور سے ہی سرشار رہا کرتی ہوں

مرا آنچل ترے دامن سے بندھا ہو جیسے

کس سے مر مٹنے کی سیکھی ہے ادا کیا کہیے

شمع پر پھر کوئی پروانہ جلا ہو جیسے

بن ترے زیست تھی اک درد سمندر کی طرح

یا کڑی دھوپ میں اک آبلہ پا ہو جیسے


نسرین سید

No comments:

Post a Comment