سانس کا بوجھ نہیں، اور لگے بھاری بھی
اپنا دشمن بھی میں خود مجھ سے مِری یاری بھی
کام کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوتی مجھے
مجھ سے دیکھی نہیں جاتی مِری بیکاری بھی
سامنے ہے وہ مگر چھو نہیں سکتا میں اسے
ہے سہولت بھی میسر مجھے دشواری بھی
یہ رویہ بھی مِرے ساتھ عجب ہے میرا
کہیں جانا بھی نہیں اور ہے تیاری بھی
جانے والے کو صدا دیتا نہیں، دیکھتا ہوں
بیوقوفی بھی میں کرتا ہوں سمجھداری بھی
وقت کا زنگ بدل دے گا تِرے لہجے کو
کند ہو جائے گی تلوار یہ دو دھاری بھی
مقداد احسن
No comments:
Post a Comment