خواب جیسے مر گیا تھا خواب میں
رات میں پھر ڈر گیا تھا خواب میں
جاگنے کے بعد بالکل ٹھیک تھا
زخم دل کا بھر گیا تھا خواب میں
بند کھڑکی بھی بہت حیران ہے
کس طرف منظر گیا تھا خواب میں
صبح نے لوٹا دی مجھ کو زندگی
تیغِ شب سے مر گیا تھا خواب میں
بھول بیٹھا تھا وظیفہ، اس لیے
رات خود سے ڈر گیا تھا خواب میں
جاگنے پر خوش بھی ہوں نادم بھی ہوں
میرا دشمن مر گیا تھا خواب میں
آسماں کے راز پانے کے لیے
جسم سے چھپ کر گیا تھا خواب میں
اسحاق وردگ
No comments:
Post a Comment