Friday, 4 February 2022

خواب جیسے مر گیا تھا خواب میں

 خواب جیسے مر گیا تھا خواب میں

رات میں پھر ڈر گیا تھا خواب میں

جاگنے کے بعد بالکل ٹھیک تھا

زخم دل کا بھر گیا تھا خواب میں

بند کھڑکی بھی بہت حیران ہے

کس طرف منظر گیا تھا خواب میں

صبح نے لوٹا دی مجھ کو زندگی

تیغِ شب سے مر گیا تھا خواب میں

بھول بیٹھا تھا وظیفہ، اس لیے

رات خود سے ڈر گیا تھا خواب میں

جاگنے پر خوش بھی ہوں نادم بھی ہوں

میرا دشمن مر گیا تھا خواب میں

آسماں کے راز پانے کے لیے

جسم سے چھپ کر گیا تھا خواب میں


اسحاق وردگ

No comments:

Post a Comment