Friday, 4 February 2022

جہاں کے سارے حسین چہرے مری نظر کے حصار میں ہیں

 جہاں کے سارے حسین چہرے مِری نظر کے حصار میں ہیں

گلوں سے بھی دلنشین چہرے مِری نظر کے حصار میں ہیں

وہ جن کی خوش بختیوں پہ دنيا کے لوگ کر نے لگے ہیں عش عش

ہاں ایسے روشن جبین چہرے مِری نظر کے حصار میں ہیں

وہ جن کی پاکیزگی کی قسمیں اٹھا رہے ہیں جہان والے

وہ سارے گوشہ نشین چہرے مِری نظر کے حصار میں ہیں

وہ جن کے دیدار کی مہک سے مہک رہی ہے ہزاروں آنکھیں

وہ عنبریں عنبریں چہرے مِری نظر کے حصار میں ہیں

تِری طرح وہ جو اک نظر میں میری نظر میں سماگئے تھے

خصوصیت سے وہ تین چہرے مِری نظر کے حصار میں ہیں

وہ جن کی آنکھوں میں خار بن کر مِری محبت کھٹک رہی ہے

اسد! کچھ ایسے کمین چہرے مِری نظر کے حصار میں ہیں


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment