بنا سحر کے اجالے مجھے نہیں قبول
تِرے یہ جھوٹے دلاسے مجھے نہیں قبول
نہ تو مداری ہے نہ میں تِرا جمورا ہوں
یہ آئے دن کے تماشے مجھے نہیں قبول
بڑھا کے ہاتھ کو تم نے مجھے گرایا ہے
اگر یہی ہیں سہارے مجھے نہیں قبول
کسی کے ذہن کی جو کھڑکیاں نہ کھول سکیں
تو ایسے علم کے دعوے مجھے نہیں قبول
جو میرے دل پہ ہے گزری وہی اگر نہ کہوں
تو باقی شور شرابے مجھے نہیں قبول
ہو ظلم عام جہاں پر جہاں نہ حق پہنچے
یہ بھولے بھٹکے زمانے مجھے نہیں قبول
حنا عباس
No comments:
Post a Comment