اے خدا!! انساں اگر راز آشنا ہو جائے گا
کیا تجھے لگتا ہے پھر یہ بھی خدا ہو جائے گا
زندگی سے جل کے دل ایسا دیا ہو جائے گا
جو بجھانے آئے وہ طوفاں ہوا ہو جائے گا
مشکلوں ہی نے مجھے جینے کا بخشا حوصلہ
جانتی ہوں درد ہی میری دوا ہو جائے گا
حاجتیں لے کر فرشتے اس کے در پہ آئیں گے
آدمی ارض و سما سے ماورا ہو جائے گا
آپ اپنی ذات میں پنہاں ابھی ہر معجزہ
ایک دن انسان خود پر رونما ہو جائے گا
ڈاکٹر سکینہ پنہاں
No comments:
Post a Comment