Thursday, 6 January 2022

میں وہ جو زندہ و موجود تھا مر گیا

 After death


کچھ منٹ ہی ہوئے ہیں کہ میں

وہ جو زندہ و موجود تھا، مر گیا

شہر والو سنو

میرے مرنے کا اعلان کرتا ہوں میں

باپ کہتا ہے؛ جیسا بھی تھا، میرا بیٹا تو تھا

میرا ہمسایہ چہرے پہ افسردگی کو سجائے ہوئے

دل ہی دل میں میری موت پر طنز کرتا ہوا

مسکراتا ہوا

اور محلے میں دُکان والا میرا یار ہے

اس کو اک بار اعلان سنتے ہی دکھ تو ہوا ہے مگر

چند گاہک چلے آئے ہیں تو وہ مصروف ہے

خیر! کوئی نہیں

اپنے بچوں کی روزی کمانے میں مصروف ہے

خوش رہے

رشتہ داروں، عزیزوں میں کچھ لوگ دوڑے چلے آ رہے ہیں

یہ کیسے ہوا؟ حیرتی، سب کے سب حیرتی

چند نادار بھوکے ہیں غربت کے مارے ہوئے

مطمئن ہیں کہ کھانا ملے گا چلو تین دن ہی سہی

اور اُسے کال کی ہے، بتایا ہے (میں مر گیا)

اور وہ

ایک دم سسکیاں لے کے رونے لگی ہے

مجھے کوستے کہہ رہی ہے؛

بہت بے وفا ہو

کہ جب ساتھ مرنے کا وعدہ کیا تھا 

تو پھر تم اکیلے ہی کیوں مر گئے

اور میں

اس کی باتوں سے محظوظ ہوتا ہوا، ہنس رہا ہوں

سارے لوگوں کے بارے بتانا سہل ہے مگر

ماں کی حالت نہیں لکھ سکوں گا، بہت معذرت

خیر، کوئی نہیں

میری دیرینہ خواہش تھی، پوری ہوئی

میں مروں اور دیکھوں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے


مقداد احسن

No comments:

Post a Comment