مجھے عورتیں اچھی لگتی ہیں
مجھے عورتیں اچھی لگتی ہیں
میدان جنگ میں زخمیوں کو پانی پلانے والیں
ہمیشہ صفائی اور
اسپتالوں میں مریضوں کا خیال رکھنے والیں
مجھے عورتیں اچھی لگتی ہیں
گملوں میں پھول اگا کر صبح و شام ان کی دیکھ بھال کرنے والیں
کاغذوں اور پرانی بوتلوں سے دیدہ زیب پھول بنانے والیں
تنہائی میں خودکلامی کرنے والیں اور
راتوں کو جاگ کر خیالوں میں جینے والیں
کام کے دوران میں نورجہاں، ریشماں اور لتا، زیر لب گنگنانے والیں
اپنی نرم، گداز اور ریشم جیسی ہتھیلیوں کے پیالے میں
اپنا چہرہ رکھ کر مجسمے کی صورت دکھنے والیں
مجھے عورتیں اچھی لگتی ہیں
کومل، متحمل اور گرَیس فل
پروین شاکر اور امریتا پریتم جیسی
اپنے پرس میں کتابیں رکھنے والیں
اپنے شوہروں کی غیر موجودگی میں بھی ان کی موجودگی منانے والیں
During pregnancy
اپنے چڑچڑے پن کو گاچنی مٹی میں دبا دینے والیں
سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز میں پڑھانے اور
من چلے لڑکوں کے عجیب سوالات کو تحمل سے سہنے والیں
مجھے عورتیں اچھی لگتی ہیں
روڈ پر چلتے کمزور بوڑھوں کا ہاتھ تھام کر کراس کروانے والیں
شدید اداسی میں اپنے کمسِن بچوں کو مسکرا کر
خوش رکھنے اور سرپھرے لڑکوں کو راہ راست پر لانے والیں
ٹوٹتے تارے دیکھ کر دعائیں کرنے والیں
حیسن شہزادوں کی داستانوں میں خود کو کوئی کردار محسوس کرنے والیں
اپنے شوہروں کی ٹائیاں باندھتے ہوئے حسین مسکراہٹیں بکھیرنے والیں
مجھے عورتیں اچھی لگتی ہیں
جنگ میں لڑنے والے بہادر فوجیوں سے محبت کرنے والیں
الگنی پر انتہائی نفاست اور سلیقے سے کپڑے ڈالنے والیں
دھنک سے فیسی نیٹ ہونے والیں
اپنے بھائیوں اور جانوروں سے الگ الگ پیار کرنے والیں
اور مستقل مزاج
ظہور منہاس
No comments:
Post a Comment