Thursday, 6 January 2022

فقط وہ رات ان باکس میں رکھ دی

 اِن باکس


بہت گہری تھکن میں ہوں

ابھی تک سو نہیں پائی

تمہارے ان گِنت میسج، جنہیں ڈیلیٹ کرنا تھا

کہ سمجھی تو یہی تھی میں

فقط اک رات میں سب کچھ مٹا سکتی ہوں لیکن پھر

جونہی اِن باکس کھولا تو یہ دیکھا 

زندگی کے کچھ سنہری سال رکھے ہیں

تمہاری یاد اور ہنستی ہوئی آنکھیں

کہیں ناراض ہو کر روٹھ جانے پر

ادھورے لفظ لکھے ہیں

کہیں مجھ کو منا لینے کی خاطر پھول بھیجے ہیں

کہیں کچھ تیز لہجے میں بہت سے طنز بھی تو ہیں

مگر اکثر جگہ یہ بھی تو لکھا ہے

تمہیں مجھ سے محبت ہے

مگر پھر یوں لگا مجھ کو

کہ اب آگے جو لکھے ہیں وہ سارے لفظ خالی ہیں

کہ جیسے ایک بھی جملے کے پیچھے تم نہیں شاید

فقط یہ فون پر لکھے ہوئے کچھ حرف بے جاں ہیں

سو میں نے سب مٹا ڈالا

فقط یہ ایک جملہ رہ گیا ان باکس میں تنہا

کہ جب تم نے مجھے محفل میں پہلی بار دیکھا تھا

وہ پہلی رات تھی جب تم ذرا بھی سو نہیں پائے

وہی اک رات میں نے بھی کھلی آنکھوں گزاری تھی

فقط وہ رات میں نے اب اسی ان باکس میں رکھ دی


سیما غزل

No comments:

Post a Comment