Thursday, 6 January 2022

کسی نے بھیج دی واپس مجھے نشانی مری

 کسی نے بھیج دی واپس مجھے نشانی مِری

نکل گئی میرے اندر سے خوش گمانی مری

ابھی تو درد ہے وحشت ہے خوف طاری ہے

میں آؤں گا تو سمجھ آئے گی کہانی مری

نہ چھیڑ قصۂ رفتہ، ہُوا، ہُوا، جو ہُوا

تُو مجھ کو دل سے بتا تُو نے بات مانی مری

گزر گیا میرا بچپن بغیر کھیلے ہوئے

تِرے بغیر گزر جائے گی جوانی مری

مِرے شعور سے باہر ہے زندگی فیصل

مِرے شعور سے باہر ہے رائیگانی مری


مرزا فیصل

No comments:

Post a Comment