عارفانہ کلام حمدیہ کلام
میں سو جاؤں حمدِ خدا کرتے کرتے
اٹھوں وِردِ صلِّ علٰی کرتے کرتے
مقدر بنا اور درِ مصطفٰیﷺ پر
پہنچ ہی گئے التجا کرتے کرتے
جفا کاروں میں گِھر کے نادِ علیؑ ہو
وہ تھک جائیں گے خود جفا کرتے کرتے
مِری زندگی گزرے اے میرے مولا
ثنائے شہِ انبیاءﷺ کرتے کرتے
گزر جائیں گے پل صراطوں سے ہنس کر
نبی پاکﷺ کا تذکرہ کرتے کرتے
ہمیں مانگنے میں برتتے ہیں سُستی
نبیﷺ کب تھکے ہیں عطا کرتے کرتے
چلو ان کے روضے پہ اے غم کے مارو
اور آؤ خوشی کا مزہ کرتے کرتے
کٹے عمر طورِ نبیؐ سے اے زاہد
فرائض نوافل ادا کرتے کرتے
زاہد رضا بنارسی
No comments:
Post a Comment