Saturday, 13 August 2022

حرم سید ابرار تک آ پہنچے ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حرمِ سیدِ ابرارﷺ تک آ پہنچے ہیں

سرزمینِ فلک آثار تک آ پہنچے ہیں

ہم سیہ کار بھی انوار تک آ پہنچے ہیں

ہم گنہ کار بھی دربارؐ تک آ پہنچے ہیں

رقص کرتے ہوئے سامانِ سفر باندھا تھا

وجد کرتے ہوئے سرکارؐ تک آ پہنچے ہیں

اللہ اللہ یہ ہم سوختہ جانوں کا نصیب

کہ تِرےﷺ سایۂ دیوار تک آ پہنچے ہیں

جو فسانے رہے برسوں مِرے دل میں مستور

میرے خواجہﷺ! لبِ اظہار تک آ پہنچے ہیں

اِس سے آگے کوئی جادہ ہے نہ منزل نہ مقام

کہ تِرےﷺ کوچہ و بازار تک آ پہنچے ہیں

اب مِرے اشکوں کی قیمت کوئی مجھ سے پوچھے

یہ گہر، شاہﷺ کے دربار تک آ پہنچے ہیں

انؐ کی قسمت پہ سلاطیں کو بھی رشک آتا ہے

جو گدا آپﷺ کے دربار تک آ پہنچے ہیں

فائزِ جلوہ و فردوس بداماں ہیں وہ لوگ

جو مدینے کے چمن زار تک آ پہنچے ہیں

انؐ کی رحمت مجھے دربار میں لے آئی ہے

جلوے خود طالبِ دیدار تک آ پہنچے ہیں

میرے جذباتِ عقیدت بھی ہیں انؐ کا فیضان

جو مِرے نطقِ گہر بار تک آ پہنچے ہیں

درِ محبوب پہ یہ آہیں ، یہ اشکوں کا ہجوم

قافلے قافلہ سالارؐ تک آ پہنچے ہیں

للہ الحمد، ملا اِذنِ حضوری مظہر

للہ الحمد کہ سرکارؐ تک آ پہنچے ہیں​


حافظ مظہرالدین مظہر

No comments:

Post a Comment