Friday, 12 August 2022

سرد جذبوں کو مرے نشو و نما ملنے لگی

 أفکار پریشاں


سرد جذبوں کو مِرے نشو و نما ملنے لگی

دل کے زخموں سے مرے فن کو جِلا ملنے لگی

خوف اب حالات کا ہوتا نہیں مجھ کو کبھی

حبس کی شِدت سے تحریکِ بقا ملنے لگی

اس نے سر سے جب اتاری چادرِ عفت کبھی

برہنہ لفظوں کو معنیٰ کی رِدا ملنے لگی

جب سے میں نے حق کو حق کہنے کی عادت چھوڑ دی

میرے دشمن سے بھی مجھ کو پھر دعا ملنے لگی

لت کتب بینی کی جب سے ابنِ راہی کو لگی

اس کے شعروں کو متانت کی ادا ملنے لگی


اسامہ ابن راہی

No comments:

Post a Comment