Friday, 12 August 2022

بخت پہ الزام لگانے سے کہیں بہتر ہے

 بخت پہ الزام لگانے سے کہیں بہتر ہے

جستجو اشک بہانے سے کہیں بہتر ہے

رزق ایسا کہ ضمیر اپنا ملامت بھیجے

موت اس بھوک مٹانے سے کہیں بہتر ہے

رنجشیں اپنی جگہ پھر بھی یہی کہتا ہوں

درگزر بدلہ چکانے سے کہیں بہتر ہے

گھر میں دیواراٹھے اک سے دو آنگن بھی بنیں

دل میں دیوار اٹھانے سے کہیں بہتر ہے

سرِ مقتل کسی سر کا جدا ہونا تن سے

سر سرِ بزم جھکانے سے کہیں بہتر ہے

رسمِ دنیا ہی نبھانے کو اگر آنا ہے

پھر نہ آنا تِرے آنے سے کہیں بہتر ہے

اور برے وقت میں یاروں سے کنارہ کرنا

کر کے احسان جتانے سے کہیں بہتر ہے

نسلی دشمن ہو تو خون اپنا پلانا اس کو

سانپ کو دودھ پلانے سے کہیں بہتر .ہے

اپنے الفاظ کی حرمت کو گنوا کر پایا

خامشی شور مچانے سے کہیں بہتر ہے

حرف کردار پہ آئے جسے پا کر الفی

اس کا کھونا اسے پانے سے کہیں بہتر ہے


افتخار حسین الفی

No comments:

Post a Comment