بخت پہ الزام لگانے سے کہیں بہتر ہے
جستجو اشک بہانے سے کہیں بہتر ہے
رزق ایسا کہ ضمیر اپنا ملامت بھیجے
موت اس بھوک مٹانے سے کہیں بہتر ہے
رنجشیں اپنی جگہ پھر بھی یہی کہتا ہوں
درگزر بدلہ چکانے سے کہیں بہتر ہے
گھر میں دیواراٹھے اک سے دو آنگن بھی بنیں
دل میں دیوار اٹھانے سے کہیں بہتر ہے
سرِ مقتل کسی سر کا جدا ہونا تن سے
سر سرِ بزم جھکانے سے کہیں بہتر ہے
رسمِ دنیا ہی نبھانے کو اگر آنا ہے
پھر نہ آنا تِرے آنے سے کہیں بہتر ہے
اور برے وقت میں یاروں سے کنارہ کرنا
کر کے احسان جتانے سے کہیں بہتر ہے
نسلی دشمن ہو تو خون اپنا پلانا اس کو
سانپ کو دودھ پلانے سے کہیں بہتر .ہے
اپنے الفاظ کی حرمت کو گنوا کر پایا
خامشی شور مچانے سے کہیں بہتر ہے
حرف کردار پہ آئے جسے پا کر الفی
اس کا کھونا اسے پانے سے کہیں بہتر ہے
افتخار حسین الفی
No comments:
Post a Comment