Wednesday, 3 August 2022

کہو تو میں ابھی کچھ اور انتظار کروں

 کہو تو میں ابھی کچھ اور انتظار کروں

تمہارے نام کا ہی ورد بے شمار کروں

اگر نباہ نہیں سکتے تو دور ہٹ جاؤ

تمہیں ہٹا کے کسی اور سے میں پیار کروں

جو تم سے پہلے گزاری ہے زندگی میں نے

کہو میں کیسے اسے زندگی شمار کروں

تمہارا ہاتھ جو تھاموں تو لوگ جلتے ہیں

تمہارے لمس سے لوگوں کو بے قرار کروں

کبھی جو عید پہ ملنے کا ہی ارادہ ہو

تو راستوں پہ ستاروں کو ہم قطار کروں

میں دشمنوں کی صفوں کو اکھاڑ کر رکھ دوں

تمہاری آنکھوں کو خوابوں سے تابدار کروں

کبھی خیال کے موسم میں اس کی یاد چلے

میں تنہا اشک سے دھڑکن کو آبیار کروں


عاصم تنہا

No comments:

Post a Comment