کہو تو میں ابھی کچھ اور انتظار کروں
تمہارے نام کا ہی ورد بے شمار کروں
اگر نباہ نہیں سکتے تو دور ہٹ جاؤ
تمہیں ہٹا کے کسی اور سے میں پیار کروں
جو تم سے پہلے گزاری ہے زندگی میں نے
کہو میں کیسے اسے زندگی شمار کروں
تمہارا ہاتھ جو تھاموں تو لوگ جلتے ہیں
تمہارے لمس سے لوگوں کو بے قرار کروں
کبھی جو عید پہ ملنے کا ہی ارادہ ہو
تو راستوں پہ ستاروں کو ہم قطار کروں
میں دشمنوں کی صفوں کو اکھاڑ کر رکھ دوں
تمہاری آنکھوں کو خوابوں سے تابدار کروں
کبھی خیال کے موسم میں اس کی یاد چلے
میں تنہا اشک سے دھڑکن کو آبیار کروں
عاصم تنہا
No comments:
Post a Comment