ضرورتوں کے سبب کیا سے کیا بنانے لگا
دِیا بنا کے میں خود ہی ہوا بنانے لگا
میں پہلے پہلے بناتا رہا خیال کا جسم
پھر اس کے بعد تو جو بھی بنا بنانے لگا
میں اس خیال میں گم تھا کہ کھو گیا ہوں کہیں
کہ دستِ غیب کوئی راستہ بنانے لگا
مجھے لگا کہ یہ دنیا نئی نہیں بنتی
سو اہتمام سے مصرعہ نیا بنانے لگا
ہمارا اس کا تعلق مثالی ہوتا تھا
پھر ایک فاصلہ اس میں جگہ بنانے لگا
احسان الحق مظہر
No comments:
Post a Comment