ملنے کا امکان بنائے بیٹھے ہو
کس کو دل اور جان بنائے بیٹھے ہو
برسیں آخر بارش جیسے کیوں آنکھیں
تم بادل🌨 مہمان بنائے بیٹھے ہو
دشت کی خاک سمیٹی میں نے پلکوں سے
گھر🏠 اپنا دالان بنائے بیٹھے ہو
کون کس کی یاد بھلائے جانے کو
تم آنگن شمشان بنائے بیٹھے ہو
قسمیں وعدے جھوٹے جس کی خاطر تم
دل💔 اپنا ویران بنائے بیٹھے ہو
تنہا تنہا رہتے ہو عاصم تنہا
یہ کیسی پہچان بنائے بیٹھے ہو
عاصم تنہا
No comments:
Post a Comment