Thursday, 11 August 2022

ملنے کا امکان بنائے بیٹھے ہو

 ملنے کا امکان بنائے بیٹھے ہو

کس کو دل اور جان بنائے بیٹھے ہو

برسیں آخر بارش جیسے کیوں آنکھیں

تم بادل🌨 مہمان بنائے بیٹھے ہو

دشت کی خاک سمیٹی میں نے پلکوں سے

گھر🏠 اپنا دالان بنائے بیٹھے ہو

کون کس کی یاد بھلائے جانے کو

تم آنگن شمشان بنائے بیٹھے ہو

قسمیں وعدے جھوٹے جس کی خاطر تم

دل💔 اپنا ویران بنائے بیٹھے ہو

تنہا تنہا رہتے ہو عاصم تنہا

یہ کیسی پہچان بنائے بیٹھے ہو


عاصم تنہا

No comments:

Post a Comment