أفکار پریشاں
چھوٹی چھوٹی بات پر کوئی خفا ہوتا نہیں
عشق کی گلیوں میں ایسا حادثہ ہوتا نہیں💖
رات کی وحشت نے سرگوشی میں مجھ سے یوں کہا
سب جدا ہو جائیں لیکن غم جدا ہوتا نہیں
عشق میں رب کے کوئی دنیا جہاں کو وار دے
وہ تو مر جاتا ہے نام اس کا فنا ہوتا نہیں
دو خوشی کے درمیاں اک غم ضروری ہے، سمجھ
رات گر آںٔے نہیں تو دن نیا ہوتا نہیں
شب کی تنہائی میں سایہ بھی جدا مجھ سے ہوا
اس وقت بھی غم تِرا مجھ سے جدا ہوتا نہیں
عشق اس کا اور میں دونوں کا مسکن میرا دل
ایک ہی گھر میں ہیں لیکن سامنا ہوتا نہیں
خونِ دل جب تک قلم کی روشنائی نہ بنے
تب تلک راہی! غزل کا حق ادا ہوتا نہیں
اسامہ ابن راہی
No comments:
Post a Comment