Thursday, 11 August 2022

وہ خطاکار نہیں میں بھی گنہگار نہیں

 وہ خطاکار نہیں میں بھی گنہگار نہیں

راستہ عشق کا اس پر بھی تو ہموار نہیں

درمیاں، نامِ خدا رکھ دیا آخر میں نے

اب جدائی میں کہیں جیت کہیں ہار نہیں

ایک ہونے کی تو صورت ہی نہیں ہے کوئی

جاں مگر جاں سے جدا ہونے کو تیار نہیں

چھوڑ سکتا ہے فقط ایک بہانہ کر کے

عشق کو راہِ فرار اتنی بھی دُشوار نہیں

میری زنبیل میں ہے عشق کا سُچا موتی

میں کسی طور سے بھی مُفلس و نادار نہیں

چاند مجھ پر ہے فدا میں ہوں تخیل پہ نثار

ایسی مدہوش فضا رات کےاس پار نہیں

معجزہ کہیۓ کہ کشتی کا سفر جاری ہے

جب کہ ہاتھوں میں مِرے کوئی بھی پتوار نہیں

کیسا جادو ہے علینا کہ جڑی ہے ہر شے

‏پر بظاہر تو کہیں پر بھی کوئی تار نہیں


علینا عترت

No comments:

Post a Comment