Thursday, 11 August 2022

دیدہ و دل کو طلب نور مبیں تک لائی

 منقبت بر سیدنا عمر فاروقؓ


دیدہ و دل کو طلب نورِ مبیں تک لائی 

اک محبت اسے محبوبِ حسیں تک لائی 

ایک ہمشیر ابوحفص کو دیں تک لائی 

اک نہیں اس کو کسی اور نہیں تک لائی

دل میں اترے ہوئے لفظوں سے قصیدہ لکھوں

نام لکھوں، کہ اسے نور کا شجرہ لکھوں

اس کو ہر ایک زمانے کا مسیحا لکھوں 

میری خواہش ہے کہ اچھے سے بھی اچھا لکھوں

حسنِ پیوندِ قبا بخشنے والا فاروقؓ 

ایک معیار جدا بخشنے والا فاروقؓ

کج کلاہی کو انا بخشنے والا فاروقؓ 

ہم فقیروں کو صدا بخشنے والا فاروقؓ

وہ نبی پاکﷺ کی تسکین ہوا، دِین ہوا

 وہ جو مانگی ہوئی آمین ہوا، دین ہوا 

وہ جو ہر حسن کی تحسین ہوا، دین ہوا 

اس کا ہر فیصلہ آئین ہوا، دین ہوا 

گشت کرتا ہوا طیبہ کے گلی کوچوں میں

کیسا لگتا تھا مدینہ کے گلی کوچوں میں

یعنی شہرِ شہﷺ والا کے گلی کوچوں میں

یعنی حسنینؑ کے نانا کے گلی کوچوں میں

 اس کا انداز با اندازِ دِگر ہوتا تھا 

کرّوفر سے، اسے، سطوت سے مفر ہوتا تھا 

ہر کسی کے لیے منظورِ نظر ہوتا تھا

ہر طرف شہرۂ ناموسِ عمرؓ ہوتا تھا 

اس کی منزل کی طرح پاک تھا جادہ اس کا 

پورا کرتی تھی مشیت بھی ارادہ اس کا

عالمِ زیست بھی تھا شستہ و سادہ اس کا 

زیبِ پیوند بھی ہوتا تھا لبادہ اس کا

اس کے الہام فرامینِ پیمبرﷺ ٹھہرے 

اس کے اقوال بھی آیات کا زیور ٹھہرے 

غوث، ابدال تو اس نام کے نوکر ٹھہرے

ٹھیرنے والے کہاں اس کے برابر ٹھہرے 

اعلیٰ رتبہ ہے نبی سائیں کے گھر والوں کا 

بدر والوں کا، حنین اور شجر والوں کا

ان کے صدقے ہے ہنر باقی ہنر والوں کا 

میں تو نوکر ہوں عمرؓ اور عمرؓ والوں کا


نادر صدیقی

No comments:

Post a Comment