عشق داناؤں کی طریقت بھی ہے
عشق نادانوں کو نصیحت بھی ہے
عشق حسن سے ہے حسن عشق سے
ان کی اپنی اپنی حیثیت بھی ہے
عشق سے ڈرتا ہوں یہ اپنی جگہ
حسن کو دیکھنا میری عادت بھی ہے
حسن زندگی کہوں تو جھوٹ نہیں
زندگی ظالم بھی خوبصورت بھی ہے
محبت دلوں کی مجبوری سہی
محبت جینے کی ضرورت بھی ہے
محبت جنوں کی ابتداء سہی
محبت ادراک کی علامت بھی ہے
کیسے نظر بھر کے دیکھوں چاند کو
جب نظر میں آپ کی صورت بھی ہے
میرے لیے کوئی خواب ہو تم مگر
خواب اپنی جگہ حقیقت بھی ہے
ہوں گے اس جہاں میں دیوانے ہزار
مگر ان میں ایک تیرا حضرت بھی ہے
حضرت سرحدی
No comments:
Post a Comment