Thursday, 11 August 2022

عشق داناؤں کی طریقت بھی ہے

 عشق داناؤں کی طریقت بھی ہے

عشق نادانوں کو نصیحت بھی ہے

عشق حسن سے ہے حسن عشق سے

ان کی اپنی اپنی حیثیت بھی ہے

عشق سے ڈرتا ہوں یہ اپنی جگہ

حسن کو دیکھنا میری عادت بھی ہے

حسن زندگی کہوں تو جھوٹ نہیں

زندگی ظالم بھی خوبصورت بھی ہے

محبت دلوں کی مجبوری سہی

محبت جینے کی ضرورت بھی ہے

محبت جنوں کی ابتداء سہی

محبت ادراک کی علامت بھی ہے

کیسے نظر بھر کے دیکھوں چاند کو

جب نظر میں آپ کی صورت بھی ہے

میرے لیے کوئی خواب ہو تم مگر

خواب اپنی جگہ حقیقت بھی ہے

ہوں گے اس جہاں میں دیوانے ہزار

مگر ان میں ایک تیرا حضرت بھی ہے


حضرت سرحدی

No comments:

Post a Comment