Sunday, 16 May 2021

اس شوخ سے ملتے ہی ہوئی اپنی نظر تیز

 اس شوخ سے ملتے ہی ہوئی اپنی نظر تیز

ہے مہر درخشاں کی شعاعوں کا اثر تیز

وہ پیڑ جو تیزاب سے سیراب ہوا تھا

اس پیڑ کا ہونے لگا ہر ایک ثمر تیز

وہ منزل مقصود پہ پہنچے گا یقیناً

جو راہ میں چلتا رہے بے خوف و خطر تیز

دیتا ہے جدھر ان کو مفاد اپنا دکھائی

ارباب ہوس شوق سے بڑھتے ہیں ادھر تیز

بے نور نہ کر جائے فسادات کی آندھی

لو گھر کے چراغوں کی ذرا اور بھی کر تیز

آثار قیامت کے نظر آتے ہیں آسی

اس دور میں دیکھا گیا ہر ایک بشر تیز


آسی فائقی

عاصی فائقی

No comments:

Post a Comment