Sunday, 16 May 2021

خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ

 خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ

تعارف غموں سے ہوا رفتہ رفتہ

تھی چہرے کی رنگت تو نظروں کے آگے

چلا رنگِ دل کا پتہ رفتہ رفتہ

بھلائی کئے جا یقیں رب پہ رکھ کر

وہ دیتا ہے سب کو صِلہ رفتہ رفتہ

سنی بھوکے بچے نے جب ماں کی لوری

تو رو رو کے وہ سو گیا رفتہ رفتہ

تِرے بِن بھی کٹ جائے گی عمر لیکن

چھڑا اپنا دامن ذرا رفتہ رفتہ

نظر جو ملی دل ہوا راکھ جل کر

دھواں پھر اسی سے اٹھا رفتہ رفتہ

چمن میں کھلیں ہنستے ہنستے جو کلیاں

تو خوشبو سے مہکی فضا رفتہ رفتہ

نہ گھبراؤ مونا پریشانیوں سے

اثر لائے گی ہر دعا رفتہ رفتہ


ایلزبتھ کورین مونا

No comments:

Post a Comment