Sunday, 17 October 2021

بے سبب چاک پر دھرے تھے ہم

 بے سبب چاک پر دھرے تھے ہم

بنتے بنتے بھی کیا بنے تھے ہم

ضبطِ غم ہار ہی گیا آخر

اس کو دیکھا تو رو پڑے تھے ہم

تجھ کو کانٹے کہاں سے لگ جاتے

آگے آگے جو چل رہے تھے ہم

حادثہ کس طرف کو لے آیا

گھر سے کیا سوچ کر چلے تھے ہم

سچ بتا خالقِ جہانِ خراب

اس تماشے کو ہی بنے تھے ہم

ہو گئی شام، تب ملی دنیا

سارا دن ڈھونڈے پھرے تھے ہم


چراغ بریلوی

No comments:

Post a Comment