Sunday, 17 October 2021

غم کو وجہ حیات کہتے ہیں

 غم کو وجہِ حیات کہتے ہیں

آپ بھی خوب بات کہتے ہیں

آپ سے ہے وہ یا ہمیں سے ہے

ہم جسے کائنات کہتے ہیں

کور ذوقی کی انتہا یہ ہے

لوگ دن کو بھی رات کہتے ہیں

یہ غلط کیا ہے تجربے کو اگر

حاصلِ حادثات کہتے ہیں

بچ نکلنا فریبِ ہستی سے

بس اسی کو نجات کہتے ہیں

جس محبت پہ ہے مدارِ حیات

اس کو بھی بے ثبات کہتے ہیں

وہ مِرے شعر ہی تو ہیں شعلہ

جن کو قند و نبات کہتے ہیں


دوارکا داس شعلہ

No comments:

Post a Comment