Thursday, 8 January 2026

بھیج ساون کی گھٹا پانی پلا

 بھیج ساون کی گھٹا پانی پلا

یا کسی دریا کو لا پانی پلا

گم تھا صحرا میں خیالِ آب جو

خواب میں کہتا رہا پانی پلا

جتنے بادل ہیں تیری مٹھی میں ہیں

اے ہوا! سُن اے ہوا، پانی پلا

مرثیے کی دھوپ کتنی تیز ہے

اے غزل! پانی پلا، پانی پلا

دودھ کا چشمہ ابھی پھوٹا نہیں

اپنے تیشے کو ذرا پانی پلا

میں تو ہوں بے آب موسم کی طرح

تجھ کو رونق کیا ہوا، پانی پلا


رونق نعیم

No comments:

Post a Comment