بھیج ساون کی گھٹا پانی پلا
یا کسی دریا کو لا پانی پلا
گم تھا صحرا میں خیالِ آب جو
خواب میں کہتا رہا پانی پلا
جتنے بادل ہیں تیری مٹھی میں ہیں
اے ہوا! سُن اے ہوا، پانی پلا
مرثیے کی دھوپ کتنی تیز ہے
اے غزل! پانی پلا، پانی پلا
دودھ کا چشمہ ابھی پھوٹا نہیں
اپنے تیشے کو ذرا پانی پلا
میں تو ہوں بے آب موسم کی طرح
تجھ کو رونق کیا ہوا، پانی پلا
رونق نعیم
No comments:
Post a Comment