Monday, 15 March 2021

دیکھ لو رنگ گر مرے تل کے

 دیکھ لو رنگ گر مِرے تِل کے

بھول جاؤ گے رنگ جھلمل کے

اک غزل کیا سنا دی محفل میں

با خدا رہ گئے سبھی ہل کے

تُو مقلّد تھا عقل والوں کا

تُو نہ سمجھا معاملے دل کے

کوئی مقصد نہیں ہے ملنے کا

اچھا لگتا ہے آپ سے مل کے

گل بدن کب تُو ان کو توڑے گا

پھول تھکنے لگے ہیں کھل کھل کے

زخم کب اس قدر نمایاں تھے

جس قدر ہو گئے ہیں سل سل کے


ثروت مختار

No comments:

Post a Comment