Friday, 12 March 2021

کبھی تم کتابوں میں کچلی ہوئی تتلی جو دیکھو

 کبھی تم کتابوں میں کُچلی ہوئی تتلی جو دیکھو

تو یہ جان لینا

مجھے آسماں اور زمیں نے کچل کر تمہاری کتابوں میں

تتلی کی صورت بقا بخش دی ہے

کبھی پھول ٹوٹا ہوا کوئی پاؤ

تو یہ جان لینا

مجھے میرے اندر نے خود توڑ کر تیرے قدموں میں نقشِ وفا کر دیا ہے

کبھی کوئی ساگر امنڈتا جو دیکھو

تو یہ جان لینا

یہ میرے ہی آنسو ہیں جو اب سمندر میں طوفاں بنے ہیں

کبھی پھول، تتلی، سمندر، کنارے

گزرتے ہوئے تیرے قدموں کو تھامیں

تو یہ جان لینا 

یہ میں ہوں، جو تھک کر یہاں آ گیا ہوں

ہمارے لیے ایسے دن بھی لکھے تھے

کہ جن میں انا نے فنا کے سفر میں

کئی درد جھیلے

کئی روپ دھارے

کبھی پھول، تتلی سمندر کنارے

کبھی رنگ، خوشبو، اُجالا، ستارے


طارق عزیز

No comments:

Post a Comment