مجھے عزیز ہے کوئی بھی نور پارا ہو
چراغِ شام ہو یا صبح کا ستارا ہو
ہمارے بیچ محبت کی نہر بہتی ہے
میں اک کنارا ہوں تم دوسرا کنارا ہو
افق میں دور ستارا گرا تو ایسے لگا
کہ جیسے تم نے مجھے بام سے پکارا ہو
مجھے یقیں ہے کہ یہ بند ٹوٹ سکتا ہے
بس اک اُمڈتا ہوا تند و تیز دھارا ہو
کوئی تو ہو جو مجھے خود سے ماورا کر دے
کوئی تو ہو جو مجھے جان سے بھی پیارا ہو
میں مانتا ہوں اجل سے مفر نہیں عامر
مگر وہ شخص جیسے زندگی نے مارا ہو
مقبول عامر
No comments:
Post a Comment