اداس لوگوں کے چہرے نکھرنے لگتے ہیں
وہ مسکرائے تو لمحے سنورنے لگتے ہیں
میں ان پہ سورۂ والناس پڑھ کے پھونکتا ہوں
جو لوگ تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں
کسی کے آنے سے ملتی ہے زندگی ہم کو
کسی کے جانے سے دوبارہ مرنے لگتے ہیں
عجیب لوگ ہیں خود آشنا نہیں، لیکن
خدا کے بارے میں بکواس کرنے لگتے ہیں
کسی کا چہرہ نظاروں کا رزق ہے دانش
کسی کو دیکھ کے منظر سنورنے لگتے ہیں
اعجاز دانش
No comments:
Post a Comment