Friday, 12 March 2021

کسی خیال کی حدت سے جلنا چاہتی ہوں

 کسی خیال کی حدت سے جلنا چاہتی ہوں

میں لفظ لفظ غزل میں پگھلنا چاہتی ہوں

عجیب موسمِ دل ہے عجیب مجبوری

نہ خود سے روٹھوں نہ تم سے بچھڑنا چاہتی ہوں

پہن کے خواب قبا ڈھونڈ لوں گی چاند نگر 

سہج سہج کسی بادل پہ چلنا چاہتی ہوں

 حقیقتیں تو مِرے روز و شب کی ساتھی ہیں 

میں روز و شب کی حقیقت بدلنا چاہتی ہوں 

کبھی تو خود نگری کی فصیل سے باہر 

خود اپنے ساتھ سفر پر نکلنا چاہتی ہوں 


عذرا نقوی

No comments:

Post a Comment