کھوٹوں کو بھی کھرا بتانا پڑتا ہے
دنیا کا دستور نبھانا پڑتا ہے
اثر وقت کا چہرے پہ دکھلانے کو
آئینے⌗ کو آگے آنا پڑتا ہے
اپنی آنکھیں مریں نہ بھوکی اس خاطر
کچھ چہروں کو روز کمانا پڑتا ہے
میں میرا میں نے مجھ سے کہ چنگل سے
خود کو اکثر کھینچ کے لانا پڑتا ہے
اک چہرے کو چھونے کی خاطر فانی
یادوں کا انبار لگانا پڑتا ہے
فانی جودھپوری
No comments:
Post a Comment