Friday, 12 March 2021

کھوٹوں کو بھی کھرا بتانا پڑتا ہے

 کھوٹوں کو بھی کھرا بتانا پڑتا ہے

دنیا کا دستور نبھانا پڑتا ہے

اثر وقت کا چہرے پہ دکھلانے کو

آئینے⌗ کو آگے آنا پڑتا ہے

اپنی آنکھیں مریں نہ بھوکی اس خاطر

کچھ چہروں کو روز کمانا پڑتا ہے

میں میرا میں نے مجھ سے کہ چنگل سے

خود کو اکثر کھینچ کے لانا پڑتا ہے

اک چہرے کو چھونے کی خاطر فانی

یادوں کا انبار لگانا پڑتا ہے


فانی جودھپوری

No comments:

Post a Comment