Friday, 12 March 2021

ترکۂ رنج کہن سب کو دکھا اشک بہا

 ترکۂ رنجِ کہن سب کو دکھا، اشک بہا

خاک میں خون ملا پھول کھلا، اشک بہا

نسل در نسل ترے خواب ہوئے ہیں پامال

سوچنا چھوڑ دِلا! زخم چھپا، اشک بہا

ایک مقتول محبت نے گزارش کی صبح

ہجر کی رات کو پہلو میں بٹھا اشک بہا

یہ دھواں پھانکتی رُوداد تِرا بخت نہیں

گھُپ دریچوں میں کوئی خواب جلا اشک بہا

زندگی خوئے منافق کو بدل کر اک روز

مسکرا ساتھ مِرے کھل کے تُو یا اشک بہا

حجرۂ میر میں بیٹھا میں غزل لکھ رہا تھا

غالب و ذوق نے جب مجھ سے کہا اشک بہا

صاحبِ صبر کبھی صبر سے باہر بھی نکل

ضبط دیوار گِرا، نوحے سنا، اشک بہا

ہونے والی ہے تِری مٹی لہو سے زرخیز

ہے کڑا وقت، اٹھا دستِ دعا، اشک بہا

ہو گیا صورتِ صحرا میں اگرچہ بنجر

دل مگر پھر بھی یہی کہتا رہا، اشک بہا

ایک بوڑھے نے یہ کہتے ہوئے آنکھیں چومیں

درد کی بیٹا نہیں کوئی دوا، اشک بہا


فقیہہ حیدر 

No comments:

Post a Comment