Friday, 12 March 2021

وبا سے ہارا کشادہ سڑکوں کا کیا کرے گا

 وبا سے ہارا، کشادہ سڑکوں کا کیا کرے گا

جو مر چکا ہو تِرے دِلاسوں کا کیا کرے گا

خموش رہنے میں فائدہ ہے، بتا رہا ہوں

دُکان والا پھٹے لفافوں کا کیا کرے گا

طلب سے ہٹ کر کسی بھی شے میں مزا نہیں ہے

فقیر بندہ تمہارے پھولوں کا کیا کرے گا

وہ قہقہوں کو بڑی لگن سے سنبھالتا ہے

مگر ہماری اداس آنکھوں کا کیا کرے گا


علی زیرک

No comments:

Post a Comment