Saturday, 13 March 2021

تجھ سے مل کر میں خوابوں کی دلدل میں ہوں

 تجھ سے مل کر میں خوابوں کی دلدل میں ہوں

یہ بدن خواب ہے

اس کی ساری اداؤں کا فن خواب ہے

تیرا دھن خواب ہے

تیری ہستی گماں

ہر گماں خواب ہے

خواب ہے ہر یقیں، خواب ہے یہ زمیں

آسماں خواب ہے

جلوۂ نور بھی، شعلۂ طور بھی، گرمئ حور بھی

ہستئ دہر بھی، رونقِ شہر بھی، بیکراں بحر بھی

ان میں بھٹکا ہوا آدمی خواب ہے

ہر صدا بے صدا، ہر نظر بے بصر، ہر بشر دربدر

حرف و معنی جدا

ان کو پڑھتا ہوا آدمی خواب ہے

روپِ تعبیر کا، زخم تفسیر کا، نام تقدیر کا

رشتۂ درد بھی، جذبۂ سرد بھی، چہرۂ زرد بھی

تیری ہمراہیاں، میری گمراہیاں

روح کا رابطہ، سانس کا ضابطہ

ان سے ڈرتا ہوا آدمی خواب ہے

تجھ سے مل کر میں خوابوں کی دلدل میں ہوں


طارق عزیز

No comments:

Post a Comment