تجھ سے مل کر میں خوابوں کی دلدل میں ہوں
یہ بدن خواب ہے
اس کی ساری اداؤں کا فن خواب ہے
تیرا دھن خواب ہے
تیری ہستی گماں
ہر گماں خواب ہے
خواب ہے ہر یقیں، خواب ہے یہ زمیں
آسماں خواب ہے
جلوۂ نور بھی، شعلۂ طور بھی، گرمئ حور بھی
ہستئ دہر بھی، رونقِ شہر بھی، بیکراں بحر بھی
ان میں بھٹکا ہوا آدمی خواب ہے
ہر صدا بے صدا، ہر نظر بے بصر، ہر بشر دربدر
حرف و معنی جدا
ان کو پڑھتا ہوا آدمی خواب ہے
روپِ تعبیر کا، زخم تفسیر کا، نام تقدیر کا
رشتۂ درد بھی، جذبۂ سرد بھی، چہرۂ زرد بھی
تیری ہمراہیاں، میری گمراہیاں
روح کا رابطہ، سانس کا ضابطہ
ان سے ڈرتا ہوا آدمی خواب ہے
تجھ سے مل کر میں خوابوں کی دلدل میں ہوں
طارق عزیز
No comments:
Post a Comment