لمس مرہم کا کام کرتا ہے
تیرے چھُونے سے زخم بھرتا ہے
دیر تک کچھ نظر نہیں آتا
خواب جب ٹُوٹ کر بکھرتا ہے
میں سمندر ہوں اور وہ ناداں
مجھ کو مُٹھی میں قید کرتا ہے
نیم تیراک ہے ابھی سُورج
ڈُوبتا ہے کبھی اُبھرتا ہے
اِس لیے بھی ہوا ضروری ہے
بادباں خامشی سے ڈرتا ہے
میں وہ رستے کی دُھول ہوں جس کو
قافلہ چُوم کر گزرتا ہے
اُس کے آنے کے ذکر پر زیرک
راستہ خود بخود سنورتا ہے
علی زیرک
No comments:
Post a Comment